” شعور“ کے شور سے ایوانِ خِلقیہ میں کھلبلی!
Share
” شعور“ کے شور سے ایوانِ خِلقیہ میں کھلبلی!
کل سے ”شعور“ کا شور ہے ، واٹس ایپ کھولو تو شعور، فیس بک پر آؤ تو شعور، ہر طرف شعور کے چرچے، ہر زبان پر شعور کے تذکرے ، ہر محفل اور ہر نشست کا موضوعِ سخن شعور ۔کوئی دھلی سے دیوبند آتے ہوئے سفر کی بوریت مٹانے کے لیے ”شعور“ پر قلم آزمائی کر رہا ہے ،تو کوئی چائے کی دکان پر چسکیاں لیتے ہوئے اس کے ذکر سے لطف اندوز ہورہا ہے۔۔۔
الغرض چلتے پھرتے، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے، زبان و بیان اور قلم و قرطاس پر بس ایک ہی کلمہ ہے: شعور، شعور، شعور!
”شعور“ کے منصۂ شہود پر آنے کے بعد ایوانِ خِلقیہ میں ایک کھلبلی مچی ہوئی ہے اور اس کے شور سے پورا خلقیہ سماج ڈرا سہما ہوا ہے۔۔۔۔
شعور کی شعوریت پر اتنا اطمینان ہے کہ اب اگر کوئی طلبۂ
دارالعلوم دیوبند کے ادبی ذوق پر گفتگو کرے تو زبانی دعوے کی ضرورت نہیں، بس اس بے شعور کو یہ ”شعور“پیش کردیا جائے۔
خیر! اس برقی مجلے کو بے شعوری کی تاریکیوں سے نکال کر شعور کی روشن دہلیز تک پہنچانے والے سبھی اہلِ ذوق مبارک باد کے مستحق ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے بے شعور دلوں میں شعور کی روشنی اور بے ذوق لوگوں میں ذوق و شوق پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے۔آمین
کیو آر کوڈ یا لنک کے ذریعے شعور تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔۔۔